ہفتہ 23 مئی 2026 - 19:02
خطے میں اصل بحران اور بے چینی کا منبع امریکہ اور صیہونی حکومت کی تخریبی سرگرمیاں ہیں

حوزہ / اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔ جس میں 19 مئی 2026ء کو سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران امریکی نمائندے کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا سخت جواب دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس خط میں ایرانی مندوب نے متحدہ عرب امارات کے باراکا جوہری پلانٹ پر مبینہ ڈرون حملے میں تہران کے ملوث ہونے کے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بغیر کسی ثبوت کے ایک بے بنیاد الزام قرار دیا ہے۔

ایرانی سفیر نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ ایران خود امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے اپنی پرامن جوہری تنصیبات پر ہونے والی جارحیت کا شکار رہا ہے۔ جون 2025 اور فروری 2026 میں غیر قانونی اور وحشیانہ جنگوں کے دوران ایران کے نطنز، فردو، اصفہان اور بوشہر کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امیر سعید ایروانی نے مزید کہا: خطے میں اصل بحران اور بے چینی کا منبع امریکہ اور صیہونی حکومت کی تخریبی سرگرمیاں ہیں۔ واشنگٹن ایک طرف ایران پر الزامات لگا رہا ہے جبکہ دوسری طرف خود جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ ایران نے ہمیشہ NPT کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے اور عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha